کاروبارکیجئے ✔️
تحریر: عبداللہ بن زبیر
قسط نمبر: 09
کاروباری ذہن چاہئے
کاروبار پیسہ نہیں ذہن مانگتا ہے ، یہ بات بارہا عرض کی جا چکی ہے ، جس کے پاس دماغ ہے وہ مضبوط کاروباری بن سکتا ہے اور جس کے پاس دماغ نہیں صرف پیسہ ہے تو وہ کامیاب کاروباری کبھی بھی نہیں بن سکتا، کیونکہ آگے بڑھنے کے لئے رہنمائی پیسہ نہیں بلکہ دماغ ہوگا ، پیسہ ہاتھوں سے پھسلتا جاتا ہے مگر ذہن پیسے کو قید کرلیتا ہے، اس لئے کاروبار سے پہلے اپنی ذات میں غور کیجئےکہ کیا آپ کے پاس کاروباری ذہن ہے ؟؟ اور اگر ذہن ہے تو کاروبار کے لئے خود کو کھپا دیجئے لیکن اگر آپ کے پاس کاروباری ذہن نہیں تو آپ ابتدائی طور پہ کاروبار کے تجربوں میں یقیناً فیل ہونگے ، اس لئے کاروباری ذہن بنا کر کاروبار میں آئیے۔۔
اگر کاروباری ذہن نہ ہوتو نقصان کیسا؟
دیکھئے کاروبار کا انحصار چیزوں کے لین دین ، خرید وفروخت اور قیمت وکمیت کی پرکھ اور تجربہ پہ ہے ، اگر کاروباری ذہن نہ ہو تو مختلف قسم کے نقصانات لاحق ہو سکتے ہیں ۔۔ذیل میں چند ایک خوبیوں کو کیا جاتا ہے تاکہ یہ سمجھنے میں آسانی رہے کہ کاروباری ذہن کیا سوچتا ہے؟؟
کاروباری پوائنٹ کس جگہ ہے؟
سابقہ اقساط میں یہ بات پیش کی جا چکی ہے کہ کاروبار کے لئے جگہ مناسب ہو اور کاروبار کے لئے موزوں ہو ، کیونکہ گاہک کی آمد بھی لوکیشن کے اعتبار سے ہوتی ہے ، کاروبار کے لئے موزوں جگہ کا انتخاب انتہائی اہم ترین اہمیت کا حامل فیصلہ ہوگا اور یہ فیصلہ وہی کر سکتا ہے جس کا ذہن کاروباری ہو ، اسے پتہ ہوتا ہے کہ گاہک کس جگہ پہ لپک کے پہنچتا ہے ، وہ دیر کرلیتا ہے لیکن جلدی میں کاروباری پوائنٹ کے لئے غلط جگہ کا انتخاب نہیں کرتا ۔۔ لیکن اگر کاروباری ذہن نہ ہو تو نقصان کا ہونا لازمی ہے
جیسے نور بلوچ کے ساتھ ہوا
وہ گذشتہ پانچ سال سے ایک شوز ہاؤس پہ ملازمت کر رہا تھا، تھوڑے پیسے جمع ہوئے تو اپنا کاروبار کرنے کا خیال سوجھا، جس مارکیٹ میں جاب تھی اس مارکیٹ میں دوکانوں کا کرایہ اس کے بس کی بات نہ تھی ، اس لئے جہاں پہ سستے میں دوکان ملی اس نے آؤ تاؤ دیکھے بنا لے لی ، شاید کسی سے اس نے سن رکھا تھا کہ چیز اچھی ہو تو گاہک آتا ہے ، مگر وہ یہ بھول گیا کہ چیز کی اچھائی کا پتہ تب چلتا ہے جب وہ فروخت ہوتی ہے ، اور فروخت کا دارومدار رجحان پہ ہے ، جس طرف رجحان نہ ہو گاہک نہیں پھٹکتا ، وہ نوکری چھوڑ کے بیٹھ گیا اور وہی کچھ ہونا تھا غلط جگہ دوکان کھولنے کا فیصلہ اس کے جذبات پہ پانی پھیر گیا ، اکادکا گاہک آئے اور سامان جوں کا توں پڑا رہا، اخراجات بڑھ گئے تو بنیادی سرمایہ کاری ختم ہوتی گئی اور پھر کاروبار کے خسارے کا دکھ لے کر دوبارہ ملازمت کی تلاش شروع کر دی ، اسے فیل دیکھ کر مستقبل میں شوز بزنس کا ارادہ رکھنے والے لوگوں کے جذبات پہ بھی اوس پڑ گئی اور والدین نے بچوں کو نور بلوچ کی مثال دے کر ڈرانا شروع کردیا کہ اس بزنس میں جانے کا سوچنا بھی مت ۔۔۔۔اور ادھر نور بلوچ کی یہ کیفیت ہے کہ وہ ابھی تک قرض پہ چل رہا ہے ۔۔۔افسوس اس بات کا ہے کہ سارے علاقے میں کوئی ایک بھی ایسا نہیں تھا جو خسارے اور نقصان کی وجوہات تلاش کرتا اور اسے بتاتا کہ غلطی کہاں پہ ہے ؟؟ لیکن کسی نے بھی زحمت نہیں کی کیونکہ کوئی کاروباری ذہن کا حامل تھا ہی نہیں جو اسے صحیح راہ دکھاتا اور پھر جو کچھ ہوا وہ آپ کے سامنے ہے۔
گاہک کی مانگ اور ضرورت کیا ہے؟
گاہک کی ضرورت کو سمجھنا کاروباری ذہن کا خاصہ ہے، ایک کامیاب کاروباری کو اپنی پروڈکٹ کے متعلق یہ آگہی ہوتی ہے کہ موسم اور موقع کے اعتبار سے اس وقت گاہک کی دلچسپی کس چیز میں ہوگی ؟؟ اسی بات کے پیش نظر اسے گاہکوں کے لئے اپنے کاروباری پوائنٹ پہ سامان دستیاب رکھنا ہوتا ہے ، اگر اس کاروباری نکتے کو فراموش کر دیا جائے تو وہی کچھ ہوتا ہے جو شکیل کے ساتھ ہوا
وہ کپڑے کا نیا کاروباری تھا ، دوکان کی لوکیشن بھی اچھی تھی اور اس وقت گرمیوں کاسیزن تقریباً گذر چکا تھا ، دوکان کے اندر نئی ورائٹی رکھنے کی غرض سے کی وہ کپڑا لینے گیا تو مارکیٹ کے ہول سیل ڈیلر نے کمال ہوشیاری سے اسے سارا مال گرمیوں کے سیزن کا دے دیا، اپنے تئیں وہ ہوشیار بن رہا تھا اور دل ہی دل میں سمجھ رہا تھا کہ اس نے نفع والا سودا کیا ہے ، جو سوٹ بازار میں چار سو کا مل رہا تھا اس نے تین سو میں لے لیا گویا اس کی نظر میں ہول سیل ڈیلر خسارے میں رہا ، مگر موسم اور وقت کے حساب سے گاہک کی مانگ اور ضرورت کو وہ نہ سمجھ پایا اور پھر چھ ماہ کے لئے رقم پھنسا بیٹھا ، اب مرتا کیا نہ کرتا ، چاروناچار سردیوں کا سیزن گاہکوں کا منہ دیکھتے گذر گیا ۔۔ اگر آپ کے ذہن میں یہ بات آرہی ہو کہ کپڑا تو خراب ہونے والی چیز نہیں اگلی گرمی میں ہی کام آجائے گا ، تو اس چیز سے بالکل اختلاف نہیں ہے ، مانا کہ یہ فائدے کا سودا ہے مگر اچھا کاروباری وقتی ضرورت کو بھی مد نظر رکھتا ہے اور خاص طور پہ اس وقت جب سرمایہ کم ہو،اگر سرمایہ کاری ہو تو گرمیوں میں سردی کا کپڑا خریدنے میں نقصان نہیں ہے لیکن شکیل کے پاس تو پیسے بھی وہی تھے اور نتیجتا ایک کاروباری تکنیکی غلطی کی وجہ سے وہ سردیوں کا سارا سیزن گنوا بیٹھا ، گاہک تو بیزار ہوئے ہی اور ساتھ میں دوکان کا کرایہ اور دیگر اخراجات بھی اپنی جیب سے دینا پڑے۔۔
متوقع کسٹمرز کون سے ہیں ؟
کاروباری ذہن رکھنے والا متوقع گاہکوں کو نظر میں رکھتا ہے ، اسے پتہ ہوتا ہے کہ جس لوکیشن پہ وہ کاروبار شروع کرنے والا ہے وہاں کے لوگ کس معیار کو پسند کرتے ہیں ؟؟ اور پھر وہ اسی معیار کی پروڈکٹ بہم پہنچاتا ہے ، متوقع کسٹمرز کی پہچان اور ان کے معیار کو سمجھنا ایک کاروباری ذہن رکھنے والے انسان کی خاص خوبی ہے ، اگر اس نکتے کو نظر انداز کردیا جائے تو وہی کچھ ہوتا ہے جو ملک ثاقب کے ساتھ ہوا
اس کے والد فروٹ کے کامیاب تاجر تھے ، ان کی وفات کے بعد کاروبار کی باگ ڈور ثاقب کے ہاتھ آگئی ، لیکن لا ابالی پن اور عدم برداشت کی وجہ سے وہ اپنے والد کے قائم کردہ اڈے کو نہ سنبھال سکا ، دوستوں کی مشاورت سے کاروباری جگہ بدل لی ، پوائنٹ بھی اچھا تھا اور گاہک کی آمد بھی ممکن تھی ، لیکن عین مارکیٹ کے بیچ کام کرنے کے معیار میں اور ایک عام جگہ کے معیار میں زمین آسمان کا فرق ہے ، اس نے ایسی جگہ تلاش کی تھی جہاں کرایہ بھی کم تھا اور بزنس پوائنٹ آف ویو کے لحاظ سے اچھی بھی تھی ، اسے چونکہ والد کے ساتھ کام کرنے کی وجہ سے اچھا تجربہ تھا اس لئے بہت جلد کام شروع ہوگیا ، ابتدا میں گاہک آئے لیکن دھیرے دھیرے گاہکوں کی آمد کم ہو رہی تھی ، اس کا کاروبار خسارے میں چلا گیا ، وہ فائدے کی بجائے نقصان میں جارہا تھا ، روزانہ اپنی جیب سے نقصان کی بھر پائی ہو رہی تھی لیکن وہ سمجھ نہیں پارہا تھا کہ آخر وجہ کیا ہے ؟؟؟ اور خسارے کی وجہ گاہک کا مزاج تھا  گاہک اعلی معیار کو پسند کرنے والے تھے مگر وہ متوسط طبقہ ہونے کی وجہ سے کم قیمت فروٹ کو ترجیح دیتے تھے جبکہ ثاقب اعلی فروٹ مہنگے داموں فروخت کرنے کا متمنی تھا، نتیجتا فروٹ خراب ہونے لگے ، گاہک کی آمد پہ اثر پڑنے لگا اور دھیرے دھیرے فروٹس کی مقدار کم ہوتی گئی اور بالآخر ایک دن وہ گھر بیٹھ گیا۔۔ اگر وہ یہ وجہ سمجھ لیتا ، علاقہ کی مناسبت سے کم معیار والے بی کیٹگری کے فروٹس لے آتا تو کم قیمت کی وجہ سے فروخت بڑھتی اور کام چل نکلتا، مگر ایک تکنیکی خامی کی وجہ سے وہ کاروبار سے ہاتھ دھو بیٹھ
اگر اس کے متوقع گاہک کے معیار کو پرکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت ہوتی تو ایسا ہر گز نہ ہوتا لیکن “اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چھ گئیں کھیت”۔۔۔
کسٹمرز کو مطمئن کرنے کا ڈھنگ
ہر کاروبار اسی لئے کاروبار ہے کہ اس کا ایک گاہک ہے ، کسٹمر ہے ، اگر گاہک نہیں تو کاروبار نہیں ، کاروبار تبھی کاروبار بنتا ہے جب اس سے لوگوں کی وابستگی ہو ، اور یہ رشتہ قائم کرنے کے لئے ان کا اطمینان ضروری ہے ، کسٹمرز کو %100 مطمئن کرنا لازمی ہے ، یہ کاروباری ذہن کی خوبی ہوتی ہے ، اور اسی اطمینان کی وجہ سے مطمئن کسٹمرز دوسرے کسٹمرز کو لانے کا سبب بن جاتے ہیں ۔ سیانے کاروباری کہتے ہیں کہ 10 غیر مطمئن گاہکوں سے ایک مطمئن گاہک کا ہونا بہتر ہے ، ایک مطمئن گاہک دس مزید گاہک لانے کی وجہ بن جاتا ہے جبکہ دس غیر مطمئن گاہک سو متوقع کسٹمرز کو خراب کرنے کا سبب بن جاتے ہیں ۔
اس لئے جب تک ایک کاروباری اپنے کسٹمرز کو مطمئن کرنے کے ڈھنگ سے نابلد ہے تب تک وہ کبھی بھی کامیاب کاروباری نہیں بن سکتا ۔۔اگر یہ خوبی نہ ہوئی تو کاروبار میں آپ کا حال بھی طیب چوہدری جیسا ہوگا۔
اس نے اچھی جگہ پہ ڈیپارٹمنٹل سٹور کھولا ، تجربہ کی بنیاد پہ کام کی شروعات بھی اچھی رہی مگر ایک سال بعد وہ سٹور میں گاہکوں کا انتظار کرتا رہتا ، دھیرے دھیرے سیل کم ہوئی اور اکادکا لوگ اس سٹور کی جانب رخ کرتے تھے ، سال بھر تو انتظار کیا مگر جان کے لالے پڑنے لگے، پارٹیوں کا مال پڑے پڑے ایکسپائر ہونے لگا، ادھار گئی تو واپس نہیں مل رہی تھی ، اب اس کے ذہن میں ایک ہی خیال سوجھا کہ کسی نے میرے کاروبار پہ جادو کیا ہے ، کوئی بندش ہوئی ہے ، جبکہ حقیقت میں اس کا غیر اطمینان بخش رویہ تھا ، چینی کہاوت ہے کہ “جسے مسکرانا نہیں آتا اسے دوکان نہیں کھولنی چاہئے ” گاہک کو نامناسب رویہ بالکل برداشت نہیں ہوتا ، اور طیب کا یہی رویہ اسے لے ڈوبا، گاہک کاکام ہوتا ہے فرضی کہاوتیں گھڑنا جیسے گاہک چیز دیکھتے اور قیمت پوچھتے ہوئے عموماً یہ کہے گا “یہ چیز فلاں دوکان پہ تو اتنے کی مل رہی ہے آپ اتنی مہنگی کیوں دے رہے ہو ؟” اور گاہک قریب کی کسی دوکان کا حوالہ بھی دے دیتا ہے ، عام طور پر اچھا کاروباری اس گاہک کو مطمئن کرتا ہے “بھائی ہر چیز کا فرق ہوتا ہے وہ چیز اس سے لازمی مختلف ہوگی یا کسی اور کمپنی کی ہوگی” اگر گاہک مطمئن نظر نہ آرہا ہو تو ذہین کاروباری مزید ایک جملہ جوڑتا ہے ” دیکھیں اگر اس ریٹ میں یہ چیز ملتی ہے تو آپ مجھے ایک درجن لے کے دو میں آپ کو بھی نفع دوں گا” چونکہ وہ گاہک کی چھوڑی ہوئی ایک پھلجھڑی ہوتی ہے اس لئے وہ کبھی بھی سامان لے کے دینے کی ہامی نہیں بھرتا اس لئے وہ ریٹ پہ تھوڑی بحث کے بعد خرید پہ آمادہ ہوجاتا ہے ۔ طیب چوہدری کو یہ فن نہیں آتا تھا اور اس پہ مستزاد وہ ایک نامناسب جملہ بھی کہہ دیتا ” اگر اتنے کی مل رہی ہے تو جاکے لے لو ہم اس ریٹ میں نہیں دیتے” جبکہ ذہانت کے اعتبار سے کہنا یہ چاہئے تھا ” انتہائی معذرت چاہتا ہوں سر ! آپ میری دوکان پہ آئے بہت شکریہ ، شاید اس دوکان والے کے پاس پہلے کا سٹاک ہو لیکن ہماری خرید مہنگی ہے تو اس لئے یہ قیمت میری سمجھ سے باہر ہے ، ہاں البتہ آپ کو اپنا گاہک بنانے کے لئے میں اپنے نفع میں سے پانچ دس روپے کم کر سکتا ہوں ”
اور عام طور پہ تہذیب اور مسکراتے چہرے کے ساتھ ادا کئے گئے یہ جملے گاہک کو چیز کی خریداری پہ مجبور کر دیتے ہیں ۔۔ چونکہ طیب چوہدری اس خوبی سے آشنا نہ تھا اس لئے فیل ہوگیا ۔۔ کاروبار کاارادہ رکھنے والا جب تک اطمینان مطمئن کرنے کا ڈھنگ نہ سیکھ لے تب تک وہ کامیاب کاروباری نہیں بن سکتا۔ یہ صرف ایک اشارہ دیا ہے اس سے متعلقہ کئی باتیں ہیں جو تجربہ اور مشاہدہ سے آپ سیکھ سکتے ہیں ۔
(جاری ہے)
اگر کالم اچھا لگے تو لازمی شئیر کیجئے گا۔ شکریہ

Published On: July 15th, 2021 / Categories: Blog /

Subscribe To Receive The Latest News

Subscribe our newsletter to get latest news right in your inbox.

Thank you for your message. It has been sent.
There was an error trying to send your message. Please try again later.

Add notice about your Privacy Policy here.