کاروبار کیجئے/عبداللہ بن زبیر
قسط نمبر: 7
کوالٹی کی تلاش
کسی بھی کاروبار کی کامیابی اس کی پروڈکٹ کا معیار ہے، بازار میں چیز نہیں بلکہ معیار فروخت ہوتا ہے، بارہا دیکھا گیا کہ معمولی سی ریڑھی پہ فروخت ہونے والے پکوڑے ایک کمرشل پلازہ کے ڈیپارٹمنٹل سٹور سے زیادہ بزنس دے رہے ہوتے ہیں ، اس کی وجہ کیا ہوتی ہے ؟ صرف اور صرف معیار ۔۔ پھجے کے چنے، چنیوٹ کا فرنیچر، کمالیہ کا کھدر، سیالکوٹ کا سپورٹس سامان، ملتان کے کھسے اور سوہن حلوہ کیوں اتنا مشہور ہو ہے؟ وجہ صرف کوالٹی ہے۔
کاروبار جو بھی کیجئے لیکن اس میں معیار کو اولین ترجیح دیجئے، زیادہ بچت یا منافع کی لالچ میں تھرڈ کلاس کوالٹی کاروبار کو تباہی کی طرف لے جا سکتی ہے۔ اس لئے کسی بھی کاروبار میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے معیار پہ نظر رکھئے۔ مارکیٹ میں معیار کی کمی ہے۔ لوگوں کو کوالٹی چاہئےاگر معیار دیں گے تو کچھ عرصہ بعد آپ کی پروڈکٹ کی اتنی فروخت ہوگی کہ کسٹمرز کو سنبھالنا مشکل ہوجائے گا۔۔ اس لئے معیار پہ کوئی سمجھوتہ نہیں ۔
پرانا کاروبار
بعض اوقات نیا کاروبار کرنے میں تھوڑا رسک ہوتا ہے ، اس لئے کوئی ایسا آدمی تلاش کیا جائے جو چلتا ہوا کاروبار فروخت کررہا ہو، اس سے دو فائدے حاصل ہوتے ہیں ، ایک بنابنایا سیٹ اپ مل جاتا ہے
پہلے دن سے ہی آمدنی شروع ہوجاتی ہے۔۔بہت سے لوگ مارکیٹ میں بیٹھے ہوتے ہیں جو اپنا چلتا کاروبار جیسے ہے جہاں ہے کی بنیاد پہ فروخت کرنا چاہتے ہیں ۔۔یا تو ان کے پاس متبادل کاروبار کا آئیڈیا ہوتا ہے یا وہ موجودہ کاروبار سے توقع کے مطابق آمدنی حاصل نہیں کرپا رہے ہوتے۔۔ ان دو وجوہات کی سے وہ اپنا کاروبار فروخت کرتے ہیں ، اب سوال یہ ہے کہ ایک فیل شدہ کاروبار خرید کر ہمیں کیا فائدہ ہوگا ؟
پہلی بات تو یہ ہے کہ جس کاروبار کو چلتے ہوئے کئی سال ہو چکے وہ فیل نہیں ہے لیکن لمحہ بھر کے لئے اگر اس کاروبار کو فیل مان بھی لیا جائے تو دوسری بات یہ ہے کہ کاروباری اعتبار سے تمام انسانوں کے تجربات اور قسمت یکساں نہیں ہوتے ۔۔
اس لئے وہ کاروبار آسانی سے چل سکتا ہے ، نئے کاروبار میں کسٹمرز بننے اور تعلقات استوار کرنے پہ کچھ وقت لگتا ہے اس لئے بہتر توقع کی جا سکتی ہے۔۔
کون ساکارو بار کیا جائے؟
اکثر لوگ مجھ سے فون پہ رابطہ کرکے یہ سوال کر رہے ہیں کہ ہم کون سا کاروبار کریں ؟ دیکھیں یہ ایک ایساسوال ہے جو آپ کے ذہنی رجحان ، سرمایہ ، جگہ اور حالات وابستہ ہے ، سر دست اس کا کوئی جواب نہیں تاہم آج کے دور کے لحاظ سے کچھ کاروبار ایسے ہیں جن کےبارے میں بجا طور کہا جا سکتا ہے کہ یہ کاروبار سونے کا انڈا دینے والی مرغی کے مشابہ ہیں ۔۔
کیونکہ کچھ کاروبار ایسے ہیں جو سدا بہار ہیں ایک بار کی بھاری سرمایہ کاری اور پھر درجہ بدرجہ اس کی کامیابی سے کاروباری منفعت بہت زیادہ ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ اور ساتھ ساتھ اخراجات بھی پورے ہونے لگتے ہیں ۔۔
کاروبار کی اس فہرست میں اوّل پراپرٹی کا بزنس ہے ، اس میں خسارہ نہیں ہے ، اگر بولنے اور ڈیل کرنے کی صلاحیت ہو اور پھر جگہ کو پرکھنے والی نظر ہو تو یہ کاروبار دو تین سالوں میں لاکھوں سے کروڑوں تک جا پہنچتا ہے۔
دوسرا کاروبار سروسز کی بنیاد پہ ہے جیسے کیٹرنگ ، سکولنگ ، گیسٹ ہاؤس ، ہاسٹلز وغیرہ
یہ ایسے کاروبار ہیں جن کو شروع کرنے کے منیجمنٹ کی صلاحیت چاہئے، ان کو سنبھالنے کا ہنر چاہئے اگر ایسی خداداد صلاحیتوں کے آپ مالک ہیں تو پھر یہ کاروبار گولڈ کا بزنس ہیں ۔۔
کاروبار کے لئے گورنمنٹ فنڈنگ کرتی ہے؟
جی ہاں گورنمنٹ کے تحت رجسٹرڈ مالیاتی ادارے سود کی بنیاد پہ قرض دیتے ہیں ، لیکن بھاری شرائط اور مالی استحکام دو ایسے جن ہیں جن کو قابو کرنا عام آدمی کے بس کا روگ نہیں ہے، اور ویسے بھی یہ سود ہے تو حرام کی آمیزش سے حلال رزق کا حصول کار عبث ہے، اس لئے یہ بات ذہن سے ہی نکال دیجئے۔۔
مضاربہ/ مشارکہ
بعض لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ ایک کا سرمایہ اور دوسرے کی محنت سے بھی کاروبار چل سکتا ہے اور ایسا ممکن بھی ہے لیکن یہ صرف وہاں ممکن ہوگا جہاں باہمی تعلق مضبوط ہو مگر اکثر دیکھا گیا ہے کہ اس ترتیب سے قائم کئے گئے کاروباری ڈھانچے تباہ ہوجاتی ہیں ، اور کچھ لوگوں کا یہ بھی خیال ہوتا ہے کہ لوگوں سے تھوڑا تھوڑا سرمایہ جمع کرکے بھی کاروبار کیا جاسکتا ہے اور پھر حاصل ہونے والے منافع کو مساویانہ تقسیم کر دیا جائے جی ہاں ایسا بھی ممکن ہے لیکن نقصانات کے خدشات وہی ہیں جو پہلے عرض کر چکا ہوں پھر بھی یہ سلسلہ اگر محدود ہو اور چند احباب پہ مشتمل ہو تو مضائقہ نہیں بلکہ شرعی طور پہ قابل تحسین عمل ہے لیکن اس سسٹم کو وسیع پیمانے پہ لے جانا اور افراد کو سرمایہ کاری کے لئے مدعو کرنا نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ تجرباتی بنیاد پہ تنازعہ اور کاروبار کی تباہی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔
گورنمنٹ آف پاکستان کے وضع کردہ اصولوں کے مطابق کوئی بھی فرد یا افراد کسی شخص یا ادارے سے شرکت یا مضاربہ کی بنیاد پہ رقم لینے کا مجاز نہیں اگر کوئی کسی کو رقم دیتا یا کسی سے لیتا ہے تو اپنے نفع و نقصان کا وہ خود ذمہ دار ہے ، تاہم وضع کردہ پالیسیوں میں ایک شق یہ بھی رکھی گئی ہے کہ آپ لوگوں سے کاروبار کے لئے رقم لے سکتے ہیں ۔۔ مگر اس کی شرائط ہیں ۔۔
سرمایہ کاری کی پیشکش
عوام میں ایسے لوگ موجود ہیں جو سرمایہ کاری کا شوق رکھتے ہیں ، لیکن اعتماد کے فقدان کی وجہ سے وہ کسی فرد پہ بھروسہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے ۔اور قانونی اعتبار سے کسی کو سرمایہ کاری کی دعوت دینا کہ جناب میں کاروبار کرنا چاہتا ہوں آپ مجھے پیسہ دیجئے منافع کا حصہ طے کرلیتے ہیں اگر یہ دو ایک افراد کے مابین اعتماد کی بنیاد پہ چھوٹا سا کاروباری معاہدہ ہو تو مضائقہ نہیں مگر وسیع پیمانے پہ ایسا کرنے سے قانون حرکت میں آجاتا ہے اور ایسا شخص مجرم تصور کیا جاتا ہے، مالیاتی لین دین کی یہ ہدایات ہر بینک کے کسٹمر سیکشن میں درج ہوتی ہیں مگر ایک ایسا طریقہ ہے جس کی رو سے آپ مختلف افراد کو باقاعدہ اخباری اشتہار کے ذریعے بھی سرمایہ کاری کے لئے مدعو کر سکتے ہیں ۔۔
اس عمل کے لئے آپ کو ایک مالیاتی رجسٹرڈ کمپنی اور سرمایہ کی ضرورت ہوگی
کسی بھی شراکتی سرمایہ کاری کے عمل کے لئے مالیاتی ادارے کو گورنمنٹ آف پاکستان کی وضع کردہ پالیسیوں کے مطابق “سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان” میں رجسٹرڈ کروانا پڑتا ہے ، اور سٹیٹ بینک جانچ پڑتال کے بعد آپ کو سراٹیفیکیٹ جاری کرتا ہے اور آپ اس بنیاد پہ لوگوں سے سرمایہ لے کر کاروبار کر سکتے ہیں ۔ لیکن جیسا میں نے عرض کیا یہ ایک متوسط طبقہ کے آدمی کے بس کاروگ نہیں ہے اس کے لئے بھاری سرمایہ چاہئے ہوتا ہے۔
بیرون ملک سرمایہ کاری
اگر آپ کے پاس سرمایہ کروڑوں میں ہے تو آپ بیرون ملک بھی کاروبار کر سکتے ہیں لیکن اس کے لئے مطلوبہ صلاحیت ، ممکنہ ملک کی معاشی صورت حال پہ نظر، متعلقہ کاروباری صلاحیت ، مستحکم پوزیشن ، افرادی قوت اور وسیع تجربہ درکار ہوگا ورنہ رقم ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔۔
ایکسپورٹ امپورٹ
آج کے دور میں جس بزنس کو سب سے زیادہ عروج ملا ہے وہ ایکسپورٹ/ امپورٹ کا بزنس ہے، یہاں کی سستی اشیاء کو انٹر نیشنل مارکیٹ میں فروخت کرنا اور کسی اور ملک کی بہترین اور معیاری اشیاء کو کسی اور ملک لے جا کر فروخت کرنا ایکسپورٹ امپورٹ یا درآمد برآمد کہلاتا ہے ۔۔
پاکستان کی پیداوار کے اعتبار سے دنیا بھر میں مانگ ہے جیسے چینی ، کوئلہ ، نمک ، فروٹ ، پٹ سن ، چاول اور کھجور کو دنیا بھر میں ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے۔۔
اس کام کے لئے چیمبر آف کامرس کی ممبر شپ ، ایک رجسٹرڈ کاروباری لائسنس اور متعلقہ ملک کا بزنس ویزہ چاہئے ہوتا ہے ۔ تب آپ اپنے ملک کی کسی پروڈکٹ کو دوسرے ملک میں فروخت کرنے کی اتھارٹی حاصل کر لیتے ہیں۔
( برائے مہربانی اگر پوسٹ اچھی لگے تو اپنی ٹائم لائن پر شئیر کر دیجئے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ مستفید ہو سکیں )

Published On: July 15th, 2021 / Categories: Blog /

Subscribe To Receive The Latest News

Subscribe our newsletter to get latest news right in your inbox.

Thank you for your message. It has been sent.
There was an error trying to send your message. Please try again later.

Add notice about your Privacy Policy here.