کاروبار کیجئے/عبداللہ بن زبیر
قسط نمبر: 5
کاروبار کےبنیادی خاکے
کاروبار کے بنیادی خاکے، مجوزہ منصوبے ، متعین کردہ جگہ ، سرمایہ کاری پلان ، تخمینہ اور استخارہ کے بارے میں آپ حضرات گذشتہ اقساط میں جان چکے ہیں، آئیے اب آگے بڑھتے ہیں
بزنس مین کی شناخت اور برتاؤ:
سیانے لوگ کہتے ہیں بزنس چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا بزنس صرف بزنس ہوتا ہے، ہاں اس کو چھوٹا اور بڑا کرنا آپ کی صلاحیتوں پہ منحصر ہے، صلاحیت اور قابلیت لوہے کو بھی سونے کے سانچے میں ڈھال دیتی ہے اور مہارت و ذہانت کا فقدان سونے کو بھی ردی کے بھاؤ بکنے پہ مجبور کر دیتا ہے۔۔
اس لئے آج سے اپنے اندر کی صلاحیتوں کو جانیے اور پرکھئے کہ کیا آپ کے اندر ایک کامیاب بزنس مین چھپا ہوا ہے؟ اگر تو آپ نے اپنے اندر کی صلاحیتوں کو پہچان لیا تو آپ یقیناً بزنس مین ہیں
بعض اوقات لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ بھائی پتہ کیسے چلتا ہے کہ کون بزنس مین بن سکتا ہے اور کون نہیں ؟
تو میں سب کو یہی جواب دیتا ہوں کہ بزنس اندر سے پھوٹتا ہے، بزنس کا تعلق پیسے سے بس واجبی سا ہے ، بزنس مین کی شناخت ہی یہی ہوتی ہے کہ وہ پیسے سے ماوراء ہوتا ہے، کیونکہ بزنس دماغ سے ہوتا ہے پیسے سے نہیں ۔۔
اور جس کے اندر یہ صلاحیت ہووہ ہر خریدی جانے والی چیز کو کاروباری نظر سے دیکھتا ہے، اس کی جیب میں چاہے ایک پیسہ نہ ہو لیکن اشیاء کی کیفیت سے وہ قیمت بھانپ لیتا ہے، قیمت خرید سے قیمت فروخت تک کا تخمینہ لگا لیتا ہے، اس کی نظر اس قدر تیز ہوتی ہے کہ وہ لمحے بھر میں دوکاندار کی مالی حیثیت کو موجودہ سامان کی کمیت سے بھانپ لیتا ہے، اسے یہ اندازہ لگانے میں قطعی طور پہ دیر نہیں لگتی کہ اس چیز کی اصل قیمت کیا ہے؟ اور دوکاندار کو اس کانفع کتنا مل رہا ہے؟
ایسے کاروباری نظر رکھنے والے لوگ ہمارے معاشرہ میں بہت کم ملتے ہیں لیکن ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ پیدائشی بزنس مین ہیں ۔اس طرح کے لوگ آپ کو مل جائیں تو ان کی صلاحیتیں خرید لیجئے ، آپ کے پاس اگر یہ ہنر نہیں ہے تو ہنر مند کو لالچ نہیں بلکہ اخلاص کے ساتھ اپنا حصہ دار بنا لیجئے چاہے وہ ایک فیصد پہ ہی کیوں نہ ہو۔۔اس وقت درجنوں ملٹی نیشنل کمپنیز ایسی ہیں جو باقاعدہ اپنے ہنر مندوں کو ماہانہ منافع کا ایک مخصوص حصہ دیتی ہیں  اس سے ایک تو وہ ہنر مند کہیں اور بھاگتا نہیں اور دوسرا اپنی دلچسپی سے بھی بڑھ کر کام میں جت جاتا ہے۔۔
بنیادی طور پہ کاروباری حضرات کی دو اقسام ہیں
پہلی قسم ان کاروباری حضرات کی ہے جو پہلے سے کاروبار سے منسلک ہیں مگر وہ اس سلسلے کو آگے بڑھانے یا مزید کوئی اور کاروبار شروع کرنے کے متمنی ہیں ، ان کے پاس سرمایہ کی کوئی انتہا ہی نہیں ، اس معاشرہ میں کئی ایسے لوگ ہیں جن کے پاس کروڑوں روپے بینکوں میں موجود ہیں لیکن انہیں کچھ سوجھ بوجھ نہیں ہے کہ وہ پیسے کہاں لگائیں ؟؟؟وہ بس اپنے موجودہ کاروبار سے مطمئن ہیں اور بس۔۔ مناسب رہنمائی نہ ہونے کی وجہ سے وہ مزید ترقی نہیں کرپاتے۔۔
دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جن کے پاس بالکل سرمایہ نہیں ہے ، وہ بس خالی پھوکھل خول کی طرح ہیں اور وہ کاروبار کا بس سوچتے ہی رہتے ہیں
لیکن یہ دونوں کاروباری نظریہ رکھنے والے لوگ اپنا اپنا نقصان کررہے ہوتے ہیں
اوّل الذکر سرمایہ دار اپنے سرمائے کو محفوظ سمجھ کر بتدریج خرچ کرتا جاتا ہے اور بالآخر ایک دن خالی ہوجاتا ہے ، جبکہ کمزور مالی حیثیت کا حامل معجزوں کے انتظار میں زندگی گزار دیتا ہے۔
پہلا کاروباری اگر اپنے تجربات کی روشنی میں کسی نئے کاروبار کی بنیاد رکھے تو ناکامی کے چانس بہت کم ہیں ، اور دوسرا اپنی مالی حیثیت کے مطابق کام کا ذہن بنا لے تو ترقی یقیناً اس کے قدم چوم لے گی ، اب وہ کام چاہے سموسے اور پکوڑے کا ڈھابہ ہی کیوں نہ ہو ایک ایک نہ دن اسے ترقی کی معراج پہ لاکھڑا کرے گا۔
دونوں تذبذب کا شکار ہیں
اوّل الذکرکاروباری نئے کاروبار کی بنیاد رکھتے ہوئے ڈرتا ہے اور غیر کاروباری اپنی سطح سے بڑھ کر کچھ کر دکھانے کی تگ و دو میں بس گھل سا جاتا ہے، نتیجتا وہ دونوں کچھ نہیں کر پاتے ، اسلئے ہر ایک کو کچھ نہ کچھ کرنا چاہئے۔۔
شیفل ہیلے کی مثال لے لیجئے
اس کے پاس بے پناہ سرمایہ تھا اس نے ایک دن سوچا کہ سرمایہ دیمک چاٹ رہی ہے کیوں نہ اس کو کسی اچھے کاروبار میں انویسٹ کیا جائے؟؟؟
یہ سوچتے ہوئے وہ مارکیٹ میں ایک کافی شاپ جا پہنچا ، کافی آرڈر کی اور چسکیاں لیتے ہوئے کن انکھیوں سے کافی شاپ کی ترتیب ، ڈیلنگ ، سروسز ، اور پروڈکٹس کا بغور معائنہ بھی کرتا رہا،
اچھے کاروباری کی پہلی پہچان ہی مشاہداتی قوت کا تیز ہونا ہے ، اور شیفل بھی انہی میں سے ایک تھا ، اس نے بھی ایسا ہی کیا ، اور پھر کچھ ہی دیر میں وہ اپنی نشست سے اٹھا اور کافی شاپ کے مینیجر سے بات کر کے تعلقات مضبوط کئے ، مستقل گاہک بنا ، روزانہ آنا جانا لگا رہا اور پھر ایک دن مینیجر کے واسطہ سے جیفرسن مالک کی ٹیبل تک جا پہنچا
” آپ کی کافی کا ذائقہ بہت لذیذ ہے لیکن شہر کے دوسرے کونے پہ رہنے والے لوگوں کو بہت دقّت ہوتی ہے ، اگر اس شاپ کے جیسی ایک دو اور شاپس بنا لی جائیں تو کیسا رہے گا؟”
خوشگوار ماحول بن چکا تھا ، وہ آپس میں گھل مل بھی چکے تھے ، یقیناً یہ ایک مفید مشورہ تھا۔لیکن جیفرسن کے پاس انویسٹمنٹ نہیں تھی اور اس کے لئے شیفل کاروباری حصہ دار بن گیا ۔ پھر وقت کے پل گزرتے دیر نہ لگی
اور اس ملاقات سے ٹھیک چار سال بعد اپنی تینتیسویں برانچ کے افتتاح پہ ربن کاٹنے سے پہلے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جیفرسن کہہ رہا تھا
” شیفل بہت بہترین پارٹنر ثابت ہوا ہے ،وہ بس میری کافی شاپ پہ گاہک بن کے آیا اور ہم پارٹنر بن گئے ، میرے پاس کام کا ہنر تھا اور اس کے پاس پیسہ تھا ، یہ میرے لئے ایک رسک تھا کہ میں اس آدمی کے ساتھ کاروبار کرنے جا رہا ہوں جسے میں جانتا تک نہیں لیکن پھر میں نے سوچا ، اتنی ساری انویسٹمنٹ اگر وہ مجھے جانے بغیر کر سکتا ہے تو اتنا سا رسک تو مجھے بھی لے لینا چاہئے ۔۔”
کاروباری لوگ اگر سرمایہ کاری کا ہنر جان لیں اور ہنر مند اپنے اندر ایمانداری کا جوہر پیدا کرلیں تو ایسی مثالیں آج بھی رونما ہو سکتی ہیں۔
( برائے مہربانی اگر پوسٹ اچھی لگے تو اپنی ٹائم لائن پر شئیر کر دیجئے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ مستفید ہو سکیں )

Published On: July 15th, 2021 / Categories: Blog /

Subscribe To Receive The Latest News

Subscribe our newsletter to get latest news right in your inbox.

Thank you for your message. It has been sent.
There was an error trying to send your message. Please try again later.

Add notice about your Privacy Policy here.