کاروبار کیجئے / عبداللہ بن زبیر
قسط نمبر: 39
وہ صبح اٹھا اور چہل قدمی کرتے ہوئے لان کی طرف چلا گیا ۔ صبح کی نورانی کرنوں سے شبنمی قطرے آنکھوں کو بھلے لگ رہے تھے ، ہری بھری گھاس کا نظارہ کرتے ہوئے وہ دھیرے دھیرے اپنے کوارٹر ایریا سے باہر چلا گیا ، ہر گھر کے سامنے لان کی ایک سی حالت تھی ، کہیں پیشہ وارانہ لحاظ سے مالی کمزور تھا اور اور کہیں مالی تعینات ہی نہیں تھا ۔
واپس آکر اپنی بیوی سے مخاطب ہوا
“ آج کے بعد ہمیں مالی کی ضرورت نہیں رہے گی کیونکہ ہم ایک ایسی مصنوعی گھاس لانچ کرنے جارہے ہیں جسے نہ کٹنگ چاہئے اور نہ ہی مالی”
یہ ڈیوڈ کینی تھے جو North Carolina University میں Triangle Park کی ریسرچ کے ہیڈ تھے اور اسی ٹیم نے برسوں کی محنت کے بعد مصنوعی گھاس پہ کام کیا ، یہ 1960 کی دہائی تھی ، گھروں میں کھیلوں کا رواج فروغ پارہا تھا اور یونیورسٹی پانی کے ضیاع اور افرادی کھپت بارے ریسرچ کر رہی تھی ، کھیلوں کے میدان بن رہے تھے اور انہی دنوں مصنوعی گھاس کی ایجاد نے تہلکہ مچا دیا ، یونیورسٹی نے انویسٹرز کو مدعو کیا اور پلان کے ڈسکس ہوتے ہی مصنوعی گھاس مینوفیکچرنگ انڈسٹری کا جنم ہوا ۔۔ یہ کھیلوں میں تفریح تلاش کرنے کا دور تھا ، مختلف کھیل معرض وجود میں آرہے تھے ، دنیا بھر کے ممالک کھیلوں میں اپنا نام بنانے کی تگ و دو میں مصروف تھے ۔
اسی کے پیش نظر مختلف کھیلوں کے لئے ٹیکساس میں دنیا کے پہلے سٹیڈیم Astrodome کا تعمیر شروع ہوئی تھی جیسے ہی یہ کام مکمل ہوا کونسل کے کسی ممبر نے سٹیڈیم میں قدرتی گھاس کی بجائے مصنوعی گھاس لگانے کا مشورہ دیا ۔۔
ممبران کی رائے میں مصنوعی گھاس کو نہ تو مالی کی ضرورت ہے نہ پانی کی اور نہ ہی دیکھ بھال کے لئے مستقل سٹاف چاہئے۔۔چند ممبران نے اس سے اختلاف بھی کیا مگر کونسل نے اسے منظور کرلیا ۔۔
بس پھر کیا تھا جہاں پانی کا مسئلہ ہوتا لوگ خوب صورت نظارے کے لئے یہی گھاس لگالیتے ، دیکھتے ہی دیکھتے امریکہ کی متعدد ریاستوں میں یہ رواج زور پکڑتا گیا اور شاپنگ مالز ، آفسز ، سکولز اور کارخانوں میں مصنوعی گھاس نے ایک آرٹ کا روپ دھار لیا۔۔
پاکستان کے شہر لاہور میں انٹر نیشنل ہاکی سٹیڈیم اور بلوچستان کے شہر چمن میں قائم کرکٹ سٹیڈیم سمیت مختلف شہروں کے منی سٹیڈیم میں بھی مصنوعی گھاس لگی ہوئی ہے جس پہ کل ملا کر 56 ملین روپے سے بھی زائد لاگت آئی ہے ۔ چونکہ یہ ایک مہنگا آئٹم ہے اس لئے ابھی تک پاکستان میں اس کو فروغ نہیں مل سکا ہے ۔۔
قدرتی گھاس صحت بخش ہے اس کا کوئی متبادل نہیں جہاں پانی لگایا جا سکتا ہو وہاں صرف اور صرف قدرتی گھاس ہی لگانی چاہئے لیکن اگر گھر یا آفس کا کوئی حصہ ایسا ہو جہاں تک پانی کی رسائی مشکل ہو یا پھر دیکھ بھال اور سٹاف کا مسئلہ ہو تو وہاں پہ یہ گھاس لگائی جاسکتی ہے ۔
اس کی تیاری میں پلاسٹک ، تار ، دھاگہ اور مختلف اشیاء استعمال کی جاتی ہیں جس کی وجہ سے اسے صرف نمائشی طور پہ ہی استعمال کیا جاتا ہے مگر یاد رہے یہ قدرتی گھاس کا ہرگز متبادل نہیں ہے لیکن معاملہ گھر کے لان ہو یا آفس کا ۔۔ لاؤنج ہو یا ڈرائنگ روم کا نظر کی طراوت کسے نہیں چاہئے ۔۔
تبھی تو گھر کے لان ، دیوار اور راہداری کو ہم پھولوں ، پودوں اور سبزے کی ٹہنیوں سے سجاتے ہیں لیکن پھر کام بڑھ جاتا ہے ، مالی کی تعیناتی ، پودوں کی دیکھ بھال اور گراس کٹنگ سمیت پتے سمیٹنا ، گھاس کو پانی لگانا تو اضافی ایک ملازم کا مالی بوجھ آخر کب تک بندہ برداشت کرے گا ؟؟ جہاں زمین اور پانی کی سہولت ہو اس کے لئے قدرتی گھاس سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں لیکن جہاں پانی اور وسائل کی کمی ہو تو سجاوٹ اور بناوٹ کے لئےمصنوعی گھاس لگانے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔
کراچی جیسے شہر اس کی مارکیٹ ہیں پاکستان میں اس کی مینوفیکچرنگ کم ہی دیکھنے کو ملی ہے اگر کوئی انویسٹر اس کاروبار میں سرمایہ کاری کا خواہش مند ہو تو میدان کھلا ہے آپ بھی اپنی قسمت آزما لیجئے۔
( جاری ہے )

Published On: July 15th, 2021 / Categories: Blog /

Subscribe To Receive The Latest News

Subscribe our newsletter to get latest news right in your inbox.

Thank you for your message. It has been sent.
There was an error trying to send your message. Please try again later.

Add notice about your Privacy Policy here.