کاروبار کیجئے/عبداللہ بن زبیر
قسط نمبر :37
آج کاروباری دنیا خرید وفروخت کے ساحل پہ کھڑی ہے، ہر ایک کچھ نہ کچھ بیچنا چاہتا ہے اور بیچنے والا کسی نہ کسی چیز کا خریدار بھی ہے ، اپنی پروڈکٹ کو بہتر انداز میں پیش کرنے کا انداز ہی اس کی فروخت میں اضافہ کرتا ہے ۔پروڈکٹ کی فروخت کے لئے پوری اشتہاری انڈسٹری کا محور ایک ہی جملہ ہے
’’ جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے‘‘۔
اور دکھنے اور بکنے کی اس دوڑ میں لوکل ہو یا انٹر نیشنل ہر برانڈ سبقت لے جانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ اور حریف سے اگے بڑھ جانے کی لالچ نے اشتہارات کی انڈسٹری کو جنم دیا اور اسی دوڑ میں عالمی اشتہاری صنعت کا قیام عمل میں آیا
اس وقت عالمی اشتہاری صنعت کا حجم کھربوں ڈالر سے تجاوز کرچکا ہے ، اور چار عالمی اشتہاری گروپ (انٹر پبلک ، اومنی کوم ، پبلیسز ، ڈبلیو پی پی ) اس صنعت کے مہا گرو ہیں۔
تاریخ تو بہت پرانی ہے البتہ جس اشتہاری صنعت سے آج ہم واقف ہیں اس کی ابتدا انیسویں صدی کی تیسری دہائی میں ہوئی جب پئیرس سوپ کمپنی کے لیے کام کرنے والے ایک صاحب تھامس بیرٹ نے پہلی کمرشل اشتہاری مہم بنائی جس میں تصویر اور سلوگن کا استعمال ہوا اور وہ سلوگن تھا
’’ صبح بخیر ! کیا آپ نے پئیرس صابن استعمال کیا ؟ ‘‘۔
پیرس کا روزنامہ ’’ لا پریس ’’ پہلا اخبار تھا جس نے 18 سو 36 میں اشتہارات اپنے صفحات پر قیمتاً چھاپنے شروع کیے۔ 18 سو 42 میں امریکی ریاست فلاڈیلفیا کے ایک جگاڑو سرمایہ کار “وولنر پامر” نے وہ کام کیا جو آج ہر اشتہاری کمپنی کرتی ہے۔
یعنی اخباری سپیس تھوک کے حساب سے خرید کر اشتہارات کے خواہش مند کاروباریوں کو نسبتاً مہنگے دام فروخت کرنے کا کام۔۔
البتہ ان اشتہارات کی تیاری کا کام خواہش مند کمپنیوں کو خود ہی کرنا پڑتا تھا۔
” آئیر اینڈ سنز” پہلی امریکی کمپنی تھی جس نے باقاعدہ اشتہاری مہم اول تا آخر بنانا شروع کی جو آج کل ایک معمول کی بات ہے۔مگر اصل اشتہاری انقلاب تب برپا ہوا جب علمِ نفسیات کے باپ
“سگمنڈ فرائڈ” کا ایک بھتیجا “ایڈورڈ برنیز” اس نتیجے پر پہنچا کہ شے بذاتِ خود نہیں بکتی جب تک کہ انسانی جبلت کو نہ چھیڑا جائے اور اسے مناسب صوتی ، بصری و لفظی انداز میں لاشعوری طور پر یہ باور نہ کرایا جائے کہ فلاں شے کی خریداری نہ صرف ایک ضرورت پوری کرے گی بلکہ اس شے کا حصول تسکین و خوشی بھی بخش سکتا ہے۔اس نفسیاتی انقلاب سے فائدہ اٹھانے والوں میں سگریٹ ساز کمپنیاں پیش پیش رہیں اور انھوں نے اتنے دلکش انداز میں لوگوں کو تمباکو نوشی کا عادی بنایا کہ آج تک کروڑوں لوگ اسیر ہیں۔
پھر یہ خیال پیدا ہوا کہ اشتہارات کو اتنا پرکشش کیسے بنایا جائے کہ صارف بے ساختہ اس شے کی جانب ہاتھ بڑھا دے جس کی اسے فوری ضرورت نہ بھی ہو۔
ایک خاتون ہیلن لینڈسڈاؤن نے امریکی اشتہاری ایجنسی جے والٹر تھامسن کے لیے صابن کا ایک اشتہار بنایا۔اس میں ایک وجیہہ مرد نے ایک حسین عورت کا ہاتھ بڑی نرمی سے تھاما ہوا ہے اور سلوگن ہے
’’ وہ جلد جسے آپ چھونا چاہیں ’’۔
آئیڈیا ہٹ ہوگیا۔خواتین جو آبادی کا نصف ہوتی ہیں کنزیومرازم کی دنیا میں جوق در جوق شامل ہونے لگیں اور کاروباریوں کے بزنس کو چار سے پانچ چاند لگتے چلے گئے۔
بیسویں صدی کے دوسرے عشرے میں ریڈیو نشریات کا دروازہ کھلا اور چوتھے عشرے میں ٹی وی گھروں میں داخل ہوگیا۔اور پھر اشتہاری رسالے ، کافی ٹیبل میگزین ، بل بورڈز اور پھر انٹر نیٹ ، سوشل میڈیا اور پھر سلیبرٹیز برانڈ ایمبیسڈر بننے لگے۔
غرض اشتہار کو جہاں جگہ ملی وہاں فٹ ہوتا چلا گیا اگر جگہ نہیں نہیں بھی ملی تو زبردستی گھس گیا۔
مگر سب سے کامیاب اشتہاری میڈیم آج بھی ٹیلی ویژن ہی ہے۔لگتا ہے کہ یہ ڈبہ ایجاد ہی اشتہار بازی کے لیے ہوا مگر ناظر کو اس ڈبے سے جوڑے رکھنے کے لیے اشتہارات کے بیچ میں چند پروگرام اور خبریں بھی باامرِ مجبوری ٹانک دیے جاتے ہیں تاکہ کاروباری گلشن کا کاروبار چلتا رہے۔ٹی وی اس قدر پرکشش اشتہاری میڈیم ہے کہ اس وقت دنیا میں جتنی بھی ایڈورٹائزنگ ہو رہی ہے اس کا لگ بھگ اڑتیس فیصد ٹی وی اسکرین لے جاتی ہے۔بیس فیصد اشتہار بازی اخبارات و رسائل کے ذریعے ہوتی ہے اور آؤٹ ڈور اشتہارات یعنی بل بورڈز وغیرہ کا تناسب محض ساڑھے چھ فیصد کے لگ بھگ ہے۔
ان سے جڑے کاروبار کیا ہیں یہ میں اپ کو کل بتاوں گا
( نوٹ : اس مضمون کے لئے مواد مختلف قلمکار حضرات کی تحریروں سے لیا گیا ہے )
#عبداللہ_بن_زبیر
#منصوبہ
#Mansoba

Published On: July 15th, 2021 / Categories: Blog /

Subscribe To Receive The Latest News

Subscribe our newsletter to get latest news right in your inbox.

Thank you for your message. It has been sent.
There was an error trying to send your message. Please try again later.

Add notice about your Privacy Policy here.