کاروبار کیجئے
تحریر : عبداللہ بن زبیر
قسط نمبر :35
اپنی کمپنی بنائیے
دنیا گلوبل بن چکی ہے اور اسی کے سبب فاصلے سمٹ گئے ہیں اور ذرائع نقل و حمل میں آسانیوں کی وجہ سےہی تجارت اس قدر پھیلی ہوئی ہے ، پاکستان میں بھی ہزاروں ملٹی نیشنل کمپنیاں ہیں جو اپنی لاکھوں پروڈکٹس فروخت کررہی ہیں، معیار اور کوالٹی کی وجہ ہماری قوم ان کی محتاج محض ہے اور یوں ہم نہ چاہتے ہوئے بھی ان کمپنیوں کو ماہانہ اربوں ڈالرز دے رہے ہیں،اگر گہرائی سے جائزہ لیاجائے تو ہماری تجارت پہ گورے قابض ہیں، آخر ایسا کیوں ہے کہ وہ باہر سے آکر ہماری تجارت پہ قابض ہیں اور ہم آج تک ان سے مقابلہ نہیں کرپائے۔
ہوسکتا ہے اس کی متعدد وجوہات ہوںمگرمیری نظر میں اس کی بنیادی وجوہات 10 ہیں-
1۔ بزنس کا ذہن نہیں ۔
2۔ ہمت نہیں ۔
3۔ ایمانداری نہیں-
4۔ باہمی اعتماد نہیں –
5۔ سرمایہ نہیں –
6۔ قوت فیصلہ نہیں ۔
7۔ مواقع نہیں –
8- وسیع سوچ نہیں –
9- ذمہ دارانہ روئیے نہیں ۔
10۔ آپس میں اتفاق نہیں –
اگر آج بھی کوئی ہمت کرلے اور بااعتماد لوگوں کو ساتھ ملا کر کاروباری سوجھ بوجھ رکھنے والے لوگوں کی رہنمائی میں ایک راہ عمل منتخب کرلے اور اتفاق کے ساتھ تمام قانونی اور اخلاقی تقاضے پورے کرتے ہوئے آگے اور مزید آگے بڑھنے کا تہیہ کرلے توکامیابی یقینا ممکن ہے–
کاروبار کرنے کی ہمت اس لئے نہیں ہوتی کہ سرمایہ کی کمی کی وجہ سے نقصان سے ڈر لگتا ہے کہ کہیں یہ تھوڑے بہت پیسے ہیں یہ ڈوب ہی نہ جائیں اور اگر کوئی جری جوان ہمت کر بھی لے تو معیار کو برقرار نہ رکھنے کی وجہ سے کسٹمرز کی اولین ترجیح نہیں بن پاتا کیونکہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی طرح وہ معیار کو نہیں بلکہ کاروبار کو بڑھانے کی کوشش کرتا ہے –
اگر ان خامیوں کو دور کرلیا جائے تو آج بھی تجارت کے میدان میں جھنڈے گاڑے جاسکتے ہیں ۔۔ اس لئے میرا ایک خواب ہے جس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے مجھے آپ کا تعاون درکار ہے ، اور جمع خاطر رکھئے یہ بھلائی آپ میرے ساتھ نہیں کر رہے ہوں گے بلکہ یہ آپ کے اپنے مستقبل کے لئے ہے ۔ اگر آپ اس سسٹم میں شامل نہیں ہونا چاہتے تو کوئی بات نہیں کوئی اور شامل ہوجائے گا لیکن خود سے یہ سوال ضرور کیجئے گا کہ آپ کیوں نہیں ؟؟
ہم میں سے کون ایسا ہے جو ترقی کا خواب نہیں دیکھتا ؟؟ ہر ایک آگے بڑھنا چاہتا ہے ، ہر کسی کو روشن مستقبل درکار ہے اور اس کے لئے ہر ایک اپنے اپنے دائرہ کار میں کوشش بھی کرتا ہے ، اپنے ذاتی سرمائے کو مصرف میں لاکر اس کی کوشش میں بھی کرتا ہوں آپ بھی کرتے ہیں اگر وہ تمام لوگ جو آگے بڑھنا چاہتے ہیں ایک پلیٹ فارم پہ جمع ہوکر اپنی ذات ، ہمت اور سرمایہ ساتھ ملا کر کچھ نیا کریں جس سے نہ صرف معاشی ترقی ہو بلکہ ایک واضح مثال بھی لوگوں کے سامنے آجائے تو کیا ایسا ممکن ہے ؟؟ جی ہاں ایسا ممکن ہے بلکہ اس وقت جو بھی کمپنیاں مارکیٹ میں موجود ہیں وہ سب اسی بنیاد پہ چل رہی ہیں ، وہ سب ساتھ مل کر ایسا کر سکتے ہیں تو آپ کیوں نہیں ؟؟ اس لئے آگے بڑھئے اور پہلا قدم اٹھا لیجئے
سمت منتخب کیجئے
سب سے پہلے خود سے یہ سوال کیجئے کہ آپ کرنا کیا چاہتے ہیں ؟؟ خود ہی کچھ کرنا چاہتے ہیں یا کسی کو ساتھ ملانا چاہتے ہیں ؟ اگر خود کچھ کرنا ہے تو کیا آپ متعلقہ شعبے کا تجربہ رکھتے ہیں اگر تو تجربہ ہے تو پھر دیر نہیں کرنی چاہئے اور اگر تجربہ نہیں تو پھر اپنے جیسے چند لوگ اور ڈھونڈلیجئے اور سب مل بیٹھ کر فیصلہ کیجئے کہ آپ نے کیا کرنا ہے ؟؟ یہ لوگ کہیں سے بھی ہو سکتے ہیں ، اپنے اپنے ذرائع استعمال کرکے تجربہ کار لوگ ڈھونڈئیے جو آپ کے لئے کام کریں – ان کا تجربہ اور صلاحیت اور آپ کاسرمایہ اور محنت — اگر کسی فیلڈ کے تجربہ کار لوگ مارکیٹ سے مل جائیں تو پھر ایک ادارہ کی بنیاد رکھ دیجئے
ہمت کیجئے
کسی بھی کاروبار کے لئے ” ہمت ” سب سے پہلا ہتھیار ہے، اگر یہ ساتھ ہو تو کچھ بھی ہو سکتا ہے وہ کسی نے کہا تھا نا کہ
بے ہمتے شکوہ کردے سدا مقدراں دے ،،
ہمت والے اگ پیندے سینے چیر کے پتھراں دے
(جن میں ہمت نہیں ہوتی وہ ہمیشہ اپنی قسمت کو قصور وار ٹھراتا ہے اور باہمت لوگ پتھروں کا سینہ چیر کر اپنی منزل کو پالیتے ہیں )
جی ہاں ! اس دنیا کامیاب وہی لوگ ہوتے ہیں جن کے اندر ہمت ہو اور وہ کچھ بھی کرنے کا اورکر گزرنے کا ہنر رکھتے ہوں اگر ہمت کا جذبہ مفقود ہو تو پہلا قدم ہی محال ہے ، اکثر لوگوں کو دیکھا ہے ” آج نہیں کل ” سوچتے ہوئے اپنی ہمت ہی گنوا بیٹھتے ہیں ، اگر کامیابی کی طلب ہو تو ہمت تو دکھانا ہی پڑتی ہے بغیر ہمت کے کوئی کام نہیں ہوتا اس لئے یہ جذبہ اپنے اندر پیدا کر لیجئے “کل نہیں آج اور آج نہیں بلکہ ابھی” والاجنون ہی آپ کو آگے لے جا سکتا ہے وگرنہ صرف سوچتے رہ جائیں گے-
ایمانداری اپنائیے
آپ اکیلے کاروبار سنبھال رہےہو یا کسی کے ساتھ مل کر آگے بڑھنا چاہتے ہوں ایمانداری اول شرط ہے بغیر ایمانداری کے ہمیشہ منہ کی کھانی پڑتی ہے اور انسان کھائیوں میں گرتا چلا جاتا ہے ، اپنے اندر موجود ایمانداری کے جذبہ کو فعال رکھئے ، یہ مت سوچئے کہ لوگ کیا کر رہے ہیں ؟؟ آپ کاکام یہ سوچنا ہے کہ آپ خود تو غلط نہیں کر رہے اگر یہ جذبہ موجود ہو تو انسان کی کامیابی یقینی ہے — اگر آپ اپنے بزنس میں ایماندار ہیں تو یقین جانئے کوئی آپ کے ساتھ بے ایمانی نہیں کر سکے گا-
اعتماد بحال کیجئے
اگر آپ ملٹی نیشنل کمپنیوں کا جائزہ لیں تو آپ کو ہر کمپنی کی پروفائل میں درجنوں ڈائریکٹرز ملیں گے یہ کمپنی کے مالکان ہوتے ہیں اور عالی دماغ ہوتے ہیں ان کی سوچ اور سرمایہ انہیں ترقی کی معراج تک پہنچا دیتا ہے ، ان کی ترقی کا راز یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے پہ اعتماد کرتے ہیں تاکہ کاروبار منظم انداز میں پنپ سکے،اس لئے ضروری ہے کہ ورکرز اور پارٹنرز کے درمیان اعتماد کارشتہ ہو۔اس دنیا میں اعتماد کے بنا چلنا بھی محال ہے ہمیں بہر صورت اعتماد کرنا ہی پڑتا ہے تبھی سسٹم چل پاتا ہے تاہم وہ تمام قانونی تقاضےضرور پورے ہونے چاہئے جن سے کسی بھی ممبر کو راہ فرار نہ مل سکے-
باقی کل انشاءاللہ

Published On: July 15th, 2021 / Categories: Blog /

Subscribe To Receive The Latest News

Subscribe our newsletter to get latest news right in your inbox.

Thank you for your message. It has been sent.
There was an error trying to send your message. Please try again later.

Add notice about your Privacy Policy here.