کاروبارکیجئے ✔️
تحریر: عبداللہ بن زبیر
قسط نمبر: 3
کاروبار میں خسارہ نہیں ہوتا
اکثر لوگ یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ پاکستان میں اس وقت کاروبار کا مناسب رجحان نہیں ہے ، مانا کہ یہاں وقت اور حالات ہر کاروبار کے لئے ناساز گار ہیں ، بد دیانتی اور بے ایمانی کا راج ہے، اور اکثر لوگ یہ شکوہ بھی کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ کوئی بھی کاروباری بندہ اخلاص کے ساتھ مشورہ دینے کو تیار نہیں ، اور واقعی ایسا ہی ہے ، ان حالات میں اگر بندہ متعلقہ فرد سے مشاورت کرتا بھی ہے تو جواب کچھ یوں ملتا ہے اس فیلڈ میں آنے کا سوچو بھی    مت  بہت برا ہو رہا ہے
تو اس بہانے  کا آسان سا مسکت جواب یہ ہے کہ “بھائی پھر ہمیں اس کاروبار کو آزمانے کا موقع دے دیجئے ، دوکان کی پگڑی سے موجودہ سامان کی مالیت تک سب کی قیمت لےلیجئے ، یہ کاروبار میں سنبھال لیتا ہوں
ہو سکتا ہے اس فیلڈ میں میری قسمت اچھی ہو”یا پھر ایک اور سوال کیجئے
“بھیا اگر اس کاروبار میں آپ کو اتنا نقصان ہو رہا ہے تو اسے چھوڑ کیوں نہیں دیتے؟ خوامخواہ خسارہ میں کیوں جارہے ہو؟؟”اس سے آپ کو یہ اندازہ ہو جائے گا کہ وہ شخص آپ سے کتنا مخلص ہے؟
یہ بھی ذہن میں رکھیں کوئی بھی کاروبار ہو اس کا جاری رہنا اس کے خسارہ زدہ نہ ہونے کی دلیل ہے۔
یہاں پہ اعتراض یہ ہوتا ہے کہ “جس کاروبار میں خسارہ نہ ہو وہ کاروبار ہی نہیں ہے”
جی ہاں بالکل سچ سمجھے ہیں ، واقعی ایسا ہی ہے لیکن خسارے کا ذہن بنائے رکھنے سے کاروبار کا آغاز نہیں ہوتا ، مگر یہ کاروباری اصول ہے کہ کاروبار کرنے اور جمانے کے لئے جو سرمایہ لگایا جاتا ہے وہ ضائع تصور کیا جائے ، یہ محفوظ سرمایہ کاری ہے جو بعد میں فوائد دے گی ، فوری طور پہ خسارہ ہی محسوس ہوگا مگر دیرپا فوائد بھی بہت جلد حاصل ہونا شروع ہوجائیں گے۔۔
تعلقات بڑھائیں
آپ جس کلاتھ ہاؤس سے کپڑا خریدتے ہیں، جس شوز شاپ سے جوتا لیتے ہیں، جس ٹیلرنگ ہاؤس سے سلواتے ہیں یہ سب آپ کا دائرہ کار ہے۔۔مکان کے لئے جس سے سامان لیا، جہاں سے بجری اور سیمنٹ خریدا ، جس سے شادی بیاہ کے پروگرام وابستہ ہیں ، جہاں سے کوئی بھی خریداری کرتے ہیں ، وہ سب آپ کے لئے مشورہ مارکیٹ ہے، مخلصانہ مشاورت آپ کے اور کاروباری افراد کے درمیان تعلقات کی گہرائی سے وابستہ ہے، اس لئے عید ہو یا شب برات تحفوں اور دعوتوں سے تعلقات کا دائرہ وسیع کیجئے۔۔
تعلقات کی تازہ مثال:
آپ کو پتہ ہوگا کہ دوکان اور سٹال کی قیمت میں نمایاں فرق ہوتا ہے، مارکیٹ سے جو چیز آپ کو ہزار میں ملتی ہے وہ اسی بازار کے نکڑ پہ 700 میں مل جاتی ہے، ایک بار لاہور کی اچھرہ مارکیٹ کے ایک سٹال سے خریداری کا اتفاق ہوا ، میں کچھ شرٹس خریدیں اور خریداری کے بعد سیل مین کے ساتھ گپ شپ شروع کردی
“بھائی ایک درجن آپ سے ایسی شرٹس لی جائیں تو کتنی رعایت ہوجائے گی؟”
“جو مناسب ہوگا کر لیں گے”
“نہیں پھر بھی اندازہ ؟”
میرا اصرار بڑھتا گیا
وہ کچھ متذبذب تھا
شاید کچھ ہچکچا رہا تھا ، اس دوران میں کرسی پہ بیٹھ چکا تھا ،
اسی اثنا میں میں نے اپنے لئے قریب کی دوکان سے جوس کا آرڈر دیا ، اور آرڈر دینے کے بعد اس سے پوچھا” کیا آپ جوس لیں گے؟ ”
اس کے انکار کے باوجود میں نے دو گلاس منگوانے کا اشارہ دے دیا، اس دوران
ہم جوس بھی پیتے رہے گپ شپ بھی کرتے رہے ، اچھی خاصی بے تکلفی ہوگئی ، اور اس مختصر ملاقات میں ہم نے ایک دوسرے کو موبائل نمبر بھی دے دئیے ، اس دوران وہ گاہک بھی ڈیل کرتا رہا ، میں نے گامنٹس کے کاروبار سے وابستہ ایک دوست سے رابطہ کرکے اس سے آرڈر لیا ، ہر دوکاندار کو سستے میں مال چاہئے ہوتا ہے ، میں کچھ سیمپل لے کر اپنے شہر آگیا اور پھر ایک مہینہ میں دوسو شرٹس منگوا لیں اور فی شرٹ مجھے تین سو میں پڑی ، جو کہ میرے دوست نے پانچ سو فی شرٹ کے حساب سے خرید لیں ، کیونکہ وہ اسی طرح کی شرٹ مجھے 700 روپے میں فروخت کرتا رہا تھا
ایک خریداری کے تعلق نے اس ایک سفر میں مجھے محض دوچار دن کی محنت سے 40 ہزار روپے منافع دے دیا ، اگر یہی پرچون میں سیل کی جاتیں تو سات سو فی شرٹ کے حساب سے آسانی سے فروخت ہو جاتیں ۔۔
مشاہدہ کو عادت بنائیے
اپنے کاروبار کی مشاورت ، بات کرنے کی صلاحیت اور سلیقہ دیکھئے اور لوگوں کو کسٹمرز سے بات کرنے کے طریقوں کو خوب غور سے سمجھئے ، یہ کاروباری امور میں ریڑھ کی ہڈی کی سی حیثیت رکھتا ہے۔۔
کاروبار کیجئے/عبداللہ بن زبیر
قسط نمبر 3
کاروبار شروع کرنے سے پہلے مخلص دوستوں سے مشورہ کیجئے
مانا کہ وقت اور حالات ہر کاروبار کے لئے ناساز گار ہیں ، بد دیانتی اور بے ایمانی کا راج ہے، کوئی بھی اخلاص کی ساتھ مشورہ دینے کو تیار نہیں ، ان حالات میں اگر بندہ متعلقہ فرد سے مشاورت کرے تو جواب ملتا ہے “اس فیلڈ میں آنے کا سوچو بھی مت بہت برا ہو رہا ہے”
تو اس کا آسان سا مسکت جواب یہ ہے کہ “بھائی پھر ہمیں اس کاروبار کو آزمانے کا موقع دو ، دوکان کی پگڑی سے موجودہ سامان کی مالیت تک سب لے لو ، ہو سکتا ہے اس فیلڈ میں میری قسمت اچھی ہو”
یا پھر ایک سوال کیجئے
“بھیا اگر اس کاروبار میں آپ کو اتنا نقصان ہو رہا ہے تو چھوڑ کیوں نہیں دیتے”
اس سے آپ کو یہ اندازہ ہو جائے گا کہ وہ شخص آپ سے کتنا مخلص ہے؟
آئندہ اس سے مشورہ نہیں لینا
آپ جس کلاتھ ہاؤس سے کپڑا خریدتے ہیں، جس شوز شاپ سے جوتا لیتے ہیں، جس ٹیلرنگ ہاؤس سے سلواتے ہیں یہ سب آپ کا دائرہ کار ہے۔۔
عید ہو یا شب برات تحفوں اور دعوتوں سے تعلقات کا دائرہ وسیع کیجئے۔۔
لاہور کی اچھرہ مارکیٹ کے سٹاپ سے آپ واقف ہوں گے، اندر مارکیٹ سے جو شرٹ آپ کو ہزار میں ملتی ہے وہ اسی بازار کے نکڑ پہ 700 میں مل جاتی ہے، ایک بار خریداری کا اتفاق ہوا تو خریداری کے بعد سیل مین کے ساتھ گپ شپ شروع کردی
“بھائی ایک درجن آپ سے ایسی شرٹس لی جائیں تو کتنی رعایت ہوجائے گی؟”
“جو مناسب ہوگا کر لیں گے”
“نہیں پھر بھی اندازہ ؟”
میرا اصرار بڑھتا گیا
وہ کچھ متذبذب تھا
شاید کچھ ہچکچا رہا تھا ، اس دوران میں کرسی پہ بیٹھ چکا تھا
اسی اثنا میں میں نے اپنے لئے قریب کی دوکان سے جوس کا آرڈر دیا ، اور آرڈر دینے کے بعد اس سے پوچھا” کیا آپ جوس لیں گے؟ ”
اس کے انکار کے باوجود میں نے دو گلاس منگوانے کا اشارہ دے دیا
اور آپ حیران ہوں گے کہ اس کے ساتھ میری بات چیت اس حد تک بڑھ گئی کہ ہم نے ایک دوسرے کو موبائل نمبر بھی دے دئیے ، اس دوران وہ گاہک بھی ڈیل کرتا رہا
جب میں وہاں سے اٹھ رہا تھا تو اسے اپنے لئے ایک راستہ دے چکا تھا
پھر ایک مہینہ میں دوسو شرٹس منگوا لیں اور فی شرٹ مجھے تین سو میں پڑی جو کہ میرے شہر میں ایک دوکاندار نے پانچ سو فی شرٹ کے حساب سے خرید لیں ، اور اس ایک سفر سے مجھے محض دوچار دن کی محنت سے 40 ہزار منافع ہوا اگر یہی پرچون میں سیل کرتا تو سات سو فی شرٹ کے حساب سے آسانی سے فروخت ہو جاتی
اپنے کاروبار کی مشاورت ، بات کرنے کی صلاحیت اور سلیقہ دیکھئے اور لوگوں کو کسٹمرز سے بات کرنے کے طریقوں کو خوب غور سے سمجھئے ، یہ کاروباری امور میں ریڑھ کی ہڈی کی سی حیثیت رکھتا ہے۔۔

Published On: July 15th, 2021 / Categories: Blog /

Subscribe To Receive The Latest News

Subscribe our newsletter to get latest news right in your inbox.

Thank you for your message. It has been sent.
There was an error trying to send your message. Please try again later.

Add notice about your Privacy Policy here.