کاروبار کیجئے/عبداللہ بن زبیر

قسط نمبر 2

کچھ کاروباری باتیں

،سرمایہ کے بغیر بھی بزنس ہو سکتا ہے۔۔۔
سرمایہ کی کمی ہو تو بھی بزنس ہو سکتا ہے یہ سفیان نے اپنے عمل سے ثابت کر دکھایا

،اس کے پاس کوئی سرمایہ نہیں تھا

لیکن اپنی محنت ، ایمانداری ، جدوجہد اور نیک نیتی کے ساتھ اس نے اپنا بزنس ایمپائر کھڑا کرلیا

    -بہت کم سننے میں آتا ہے کہ تھوڑی سی رقم سے معمولی کاروبار شروع کیا گیا اور اس نے ترقی کی معراج کو چھو لیا

سرمائے کی کمی سے بزنس کی بنیاد ڈالنا یقیناً ایک کمال ہے جس میں صرف باکمال لوگ ہی کامیاب ہوپاتے ہیں

کوئی ایک آئیڈیا ہی ہوتا ہے جس کے تحت انسان بغیر سرمائے کے کاروبار میں ہاتھ ڈال لیتا ہے

،بغیر پیسے کے بہت سے بزنس شروع ہو سکتے ہیں جیسے

،بالواسطہ مارکیٹنگ 
،پروڈکٹ کی پروموشن 
،پراپرٹی ڈیلنگ 
مڈل مین ،بروکریج 

موٹی ویشنل سپیکنگ اور اداروں کی نمائندگی

ان کے علاوہ بھی بے شمار کام ہیں جو سرمایہ کے بنا ہو سکتے ہیں ۔۔

سرمایہ کہاں سے آئے گا ؟؟

درج بالا مثال کو دیکھ کر لوگ اسی پہ انحصار کر لیتے ہیں کہ شاید بزنس بغیر پیسے کے ہوجاتا ہے

،حقیقت میں 100% ایسا نہیں ہےایسا شاذ و نازر ہوتا ہے وگرنہ عام طور پہ کسی بھی کاروبار کے لئے پیسہ اہم ترین جزو ہے

، اب سوال یہ ہے کہ پیسہ کہاں سے آئے گا ؟؟

،تو اس کے لئے آسان ترین ذریعہ ملازمت ہے ، اپنی پیشہ وارانہ قابلیت کو مد نظر رکھتے ہوئے ملازمت ڈھونڈی جاسکتی ہے

،دوستوں سے قرض بھی مانگا جا سکتا ہے

،انویسٹرز بھی تلاشے جا سکتے ہیں

،سلیپنگ پارٹنرز کو بھی ساتھ ملایا جا سکتا ہے لیکن یہ سارے کام اعتماد کی بنیاد پہ ہوتے ہیں

خود اعتمادی ہو تو لوگوں کو بھی اعتماد میں لیا جا سکتا ہے پھر انسان کا سفر کاروبار کی طرف شروع ہوسکتا ہے

اس لئے یہ سوچنا آپ کا کام ہے کہ پیسہ کیسے جمع کیا جائے ؟؟

:صلاح الدین کی مثال لے لیجئے
،اس نے اپنے دو سو کے قریب افراد کی فہرست بنائی ، جن کو وہ اچھی طرح جانتا تھا

اپنے موبائل پہ تمام نیٹ ورکس کے لئے پیکیج لگایا اور ہر ایک کو کال کرنے لگا

،” میں صلاح الدین بات کر رہا ہوں

اکتوبر کی 25 تاریخ کو مجھے ایک ہزار روپے کی ضرورت ہے ، کیا آپ بطور قرض دے سکتے ہیں ؟؟

ان شاء اللہ جیسے فرصت ملی واپس کردوں گا “

،جو میرا دوست ہو اور اس سے پندرہ دن پہلے ہی کہہ دیا جائے کہ فلاں تاریخ کو مجھے ایک ہزار روپے چاہئے ہوں گے

تو میرا نہیں خیال کہ میرا کوئی دوست انکار کرے گا، صلاح الدین کو بھی اچھا رسپانس ملا

دو سو کے قریب جاننے والے لوگوں سے ایک ایک ہزار روپے غیر معینہ مدت تک کی ادائیگی کا وعدہ کرکے مانگے گئے اور حیرت انگیز طور پہ رزلٹ نکلا

متعلقہ تاریخ کو اس کے پاس 1 لاکھ 60 ہزار روپے جمع ہوگئے ، جب وہ اس قرض کی وصولی کے لئے گھر سے نکلا تو ہر ایک سے ایک ہی بات کی

” یہ ایک ہزار آپ کی طرف سے قرض ہے یہ میں خود ہی ادا کرنے آؤں گا آپ نے کسی کو بتانا نہیں کہ میں نے قرض لیا ہے

“جنیوں اس کی جیب میں غیر محسوس انداز میں ایک لاکھ ساٹھ ہزار پہنچ گئے اور یہی اس کے لئے بزنس کی بنیاد بن گئے۔۔

کاروباری سوچ کا ہونا لازم ہے

،بعض اوقات بزنس تو شروع ہوجاتا ہے لیکن کاروباری سوچ کا فقدان رہتا ہے

،اور یہ کمزوری خسارے کی وجوہات کو جنم دیتی ہے

،پھر کامیابی کی بجائے ناکامی کا سفر شروع ہوجاتا ہے

آپ راحت تبسم کو ہی دیکھ لیجئے ، اس کا بزنس توقعات سے بڑھ کر تھا

لیکن دھیرے دھیرے واپسی کا سفر شروع ہوگیا ، اس کے پاس سرمایہ تھا ، بزنس بھی شروع ہوگیا ، اچھی سیل کی ریشو بھی نکل آئی مگر کاروباری سوچ نہ ہونے کی وجہ سے خسارہ شروع ہونے لگ گیا

کاروباری سوچ نہ ہونے کی وجہ سے اسے یہ معلوم ہی نہیں پڑ رہا تھا کہ پیسہ کہاں سے کتنا آ رہا ہے اور کتنا کن امور میں خرچ ہو رہا ہے؟؟

اسی لئے اس کا

کاروبار دن بہ دن کمزور ہوتا گیا اور بالآ خر اس کی دوکان پہ تالا لگ گیا ۔۔
کاروباری سوچ انتہائی اہم ترین چیز ہے، پیسے کی آمد و خرچ کا حساب کتاب تبھی ممکن ہے جب کاروباری سوچ ہو ، کسی بھی لمحے حساب کتاب کے معاملات سے دور نہیں رہنا چاہئے، اگر کاروباری حضرات کو اس کی سمجھ آگئی تو سمجھ لیجئے کامیابی کی بنیاد پڑ گئی

کاروباری معاملات میں سوچ کا بہت بڑا دخل ہے اور یہ سوچ کاروباری صحبت سے ملتی ہے ، اگر آپ کاروبار کرنا چاہتے ہیں تو کاروباری لوگوں کے ساتھ تعلقات بڑھائیں ، کاروباری نشست و برخاست سے سوچ میں تبدیلی آئے گی اور یہی سوچ آپ کی کامیابی کا پہلا زینہ ثابت ہوگی ۔۔

،کاروبار کا تعلق دل سے ہے

سلیم الدین میناکاری کا کام کرنا چاہ رہے تھے مگر حالات نے پرچون کی دوکان پہ بٹھا دیاکیونکہ اس کے کئی دوست پرچون فروش تھے

دوستوں کی قسمت اور سیل دیکھ کر اس نے بھی ” پرچون فروشی” اختیار کرلی مگر بہت جلد اسے اس کاروبار سے اکتاہٹ ہونے لگی

اس یکسانیت سے دھیرے دھیرے وہ بور ہونے لگ گیا اسی لئے کاروبار شروع کرنے سے پہلے اپنے دل کی سننی چاہئے

لوگوں کے کاروبار کو دیکھ کر شروعات مت کیجئے وگرنہ دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر ڈوبتے چلے جائیں گے

اس لئے صرف اسی کاروبار میں ہاتھ ڈالئے جس کے ساتھ آپ کی ذہنی مطابقت اور ہم آہنگی ہو

اور جس بزنس کے لئے آپ کا دل کسی کونے کھدرے سے آپ کے شوق کو ہوا دے رہا ہو۔۔

تجربہ لیجئے یا تجربہ کار

کامیابی کے لئےلازمی ہے کہ آپ متعلقہ بزنس کی اونچ نیچ سے واقف ہوں ، اگر آپ اس بزنس کے داؤ پیچ نہیں جانتے تو خسارہ میں جا سکتے ہیں، اس لئے اگر آپ کے پاس سرمایہ ہے تو شاہد غوری کی طرح آگے بڑھئے

وہ موٹر سائیکل کے سپئر پارٹس کا بزنس کرنا چاہتا تھا اس لئے

وہ “چوہدری آٹوز” پہ ملازم لگ گیا ، ایک ڈیڑھ سال تک اس نے سپئیر پارٹس کی الف

بے سمجھ لی اور پھر کاروبار کا تہیہ کرلیا ، اگر آپ کے پاس وقت نہیں تو پھر رانا سلیم کی مثال سامنے ہے

 

اسے گارمنٹس میں دلچسپی تھی سرمایہ بھی موجود تھا مگر تجربہ ایک دھیلے کا بھی نہیں تھا

لیکن اس نے انتہائی تجربہ کار لوگوں کو بھاری معاوضے پہ اپنے ہاں ملازم رکھ لیا

ظاہر بات ہے جب سرمایہ ، تجربہ اور محنت ساتھ مل جائیں تو ترقی کے راستے کھلتے چلے جاتے ہیں

اس لئے کسی بھی کاروبار میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے تجربہ حاصل کیجئے یا تجربہ کار لوگوں کی تلاش کیجئے تاکہ آپ کا کاروباری سفر کامیابی کی ڈگر پہ  استوار ہوجائے، ضروری نہیں کہ تجربہ کار لوگوں کو ملازم ہی رکھا جائے

انہیں اپنا پارٹنرز بھی بنایا جا سکتا ہے ، اگر پہلے ملازمت پہ رکھا جائے اور بعد ازاں ان کے مزاج کو سمجھتے ہوئےانہیں پارٹنرز بھی بنایا جا سکتا ہے۔۔

کیا پارٹنر شپ ضروری ہے؟؟

،اگر وقت کی قلت کے باعث آپ تجربہ حاصل نہیں کرپائے تو تجربہ کار لوگوں کے ساتھ پارٹنرشپ کرنا بہتر رہے گا

لیکن تمام معاملات میں ہم آہنگی اور باہمی اعتماد ضروری ہے

اگر مزاج میں ہم آہنگی نہ ہو تو تنازعات کا پیدا ہوجانا لازمی امر ہے

اس لئے انتہائی احتیاط سے کام لینا چاہئے ، اگر تجربہ کار لوگ نہ مل پارہے ہوں تو غیر متعلقہ لوگوں سے بہر صورت احتراز کرنا چاہئے

پارٹنر شپ کی صرف ایک صورت قابل عمل ہے اور وہ ہے سلیپنگ پارٹنرشپ

اگر اعتماد کی فضا ہو تو کسی اور کا سرمایہ اور آپ کی صلاحیت کاروباری حساب سے انتہائی سود مند ثابت ہوسکتی ہے

 

پارٹنرز کے چناؤ کے لئے بھی خوب احتیاط سے کام لیجئے

، اعتماد کو بنیاد بنا کر ہی پارٹنرشپ کامیاب ہو سکتی ہے

اس لئے تمام قسم کے معاملات میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کی فضا پیدا کرنا ضروری ہوگا وگرنہ معاملات بگڑ سکتے ہیں ۔

۔لیکن اگر آپ کے پاس سرمایہ بھی ہے

تجربہ بھی لے چکے ہیں تو چھوٹے بزنس میں جس قدر ممکن ہو پارٹنرشپ سے احتیاط برتئے

لیکن بصورت دیگر اگر پارٹنرشپ لازمی ہو تو دیکھ بھال لیجئے تاکہ پیش آمدہ پریشانی سے بچا جا سکے۔۔

غیر متوقع نقصانات کو مد نظر رکھئے

کاروبار کا ایک اصول یہ بھی ہے کہ پیش آمدہ غیر متوقع نقصانات کو پہلے سوچا جائے

اور نقصان کے ازالہ کے لئے بھی ذہنی طور پہ تیار رہنا چاہئے

ایسا نہ ہو آپ نفسیاتی مریض بن جائیں

منافع کا سوچنا بہر حال اچھی چیز ہے لیکن نقصان کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے

، اچانک حادثہ ، چوری ، آگ کا بھڑک اٹھنا ، زلزلہ یا کوئی بھی آفت غیر متوقع ہوتی ہے

اس لئے خود سے ایک سوال لازمی کرنا چاہئے ” اگر یہ سب کچھ تباہ ہوگیا تو میں کیا کروں گا ؟ “

اس لئے کچھ سیونگ رکھئے ، یقیناً کاروبار نفع کے حصول کے لئے ہوتا ہے لیکن نقصان بھی کاروبار کا حصہ ہے اس لئے ذہنی طور پہ کسی بھی غیر متوقع صورت حال کے لئے تیار رہنا چاہئے ۔۔

فرصت اور رخصت کی پلاننگ کیجئے

یاد رکھئے کاروبار کرنے کے بعد بھی آپ معاشرہ کے فرد ہیں ، شادی ، خوشی ، غمی اور دیگر معاشرتی رسم ورواج اور امور آپ کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں ، کبھی بھی کچھ بھی ہو سکتا ہے

اچانک حادثات میں آپ کو سفر کرنا پڑ سکتا ہے ، بیمار کی تعزیت ، کسی عزیز کی بیرون ملک سے آمد اور دیگر ملاقاتیں آپ کو رشتہ داروں سے جوڑے رکھتی ہیں اس لئے کاروبار میں اتنا مصروف رہنا کہ کسی کے لئے بھی وقت نہ نکال پائیں ایسا رویہ آپ کو معاشرہ سے الگ کرسکتا ہے اور یہ علیحدگی آپ کے لئے انتہائی نقصان دہ ہے، اس لئے ہفتہ میں چھٹی کا ایک دن شیڈول میں لازمی شامل رکھیں

اسسٹنٹ لازمی رکھیں

عین ممکن ہے کہ آپ کی کاروباری مصروفیات میں چھٹی کے علاوہ بھی آپ کو چھٹی کرنا پڑجائے

اچانک کچھ دن کے لیے کاروبار کو چھوڑنا بھی نقصان دہ ہوتا ہے

اس بے قاعدگی سے کسٹمرز پہ برا اثر پڑتا ہے اس لئے کسی بھی ناگہانی حادثہ یا بیماری کی صورت میں متبادل کے طور پہ اپنے ساتھ ایک بااعتماد اسسٹنٹ لازمی رکھئے

جس کو کاروباری سوجھ بوجھ ہو تاکہ آپ کی غیر حاضری کی صورت میں کاروبار پہ کوئی اثر نہ پڑے ۔

  اگر آپ نے ایسا نہیں کیا تو آپ کے ساتھ بھی عرفان الحق والا معاملہ ہو سکتا ہے

عرفان نے ادھار لے کر دوکان میں سامان ڈالا

چند ماہ میں ہی جنرل سٹور کا بزنس چل نکلا اور اوپر عید آگئی

رمضان کے آخری عشرے میں اس کے سسر کا انتقال ہوگیا

چاروناچار بیوی کے ساتھ دوسرے شہر جانا پڑگیا

جنازہ ، قل خوانی وغیرہ سے فراغت تک بزنس کے دن نکل گئے اور اچھا خاصا نقصان ہوگیا

، سیزن میں اگر متبادل موجود نہ ہو تو نقصان سے کوئی نہیں روک سکتا

اگر آپ بزنس شروع کرنے جا رہے ہیں تو اپنے لئے اسسٹنٹ لازمی ذہن میں رکھئے

اگر یہ آپ کے لئے فی الحال ممکن نہ ہو تو مستقبل میں مد نظر ضرور رکھئے۔۔

Published On: July 15th, 2021 / Categories: Blog /

Subscribe To Receive The Latest News

Subscribe our newsletter to get latest news right in your inbox.

Thank you for your message. It has been sent.
There was an error trying to send your message. Please try again later.

Add notice about your Privacy Policy here.